مہر خبررساں ایجنسی نے امریکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سنہ 2003 میں عراق پر فوج کشی کے بعد سے چھ سو امریکی فوجی کیمیائی مواد سے متاثر ہوئے اور امریکی وزارت دفاع نے اس مسئلے کی سنگینی کا کبھی اعتراف نہیں کیا۔ نیو یارک ٹائمز نے گذشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ امریکی فوج کو عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والا کوئی ہتھیار نہیں ملا، لیکن انھیں سنہ 1980 کی دہائی کا بچا ہوا کیمیائی مواد ڈبوں اور ناکارہ بموں میں ملا جس سے بہت سے فوجی متاثر ہوئے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عراق میں تعینات رہنے والے 17 فوجی ایسے تھے جو کیمیائی مواد سے متاثر یا زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد عراق میں تعینات رہنے والے کئی اور امریکی فوجی سامنے آئے، جس کے بعد کیمیائی مواد سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرنے والے فوجیوں کی تعداد 25 ہو گئی ہے۔ اخبار نے فوجی حکام کےحوالے سے کہا ہے کہ وزیر دفاع چک ہیگل کے حکم پر کرائی گئی تحقیقات سے ظاہر ہوا ہے کہ ایسے فوجیوں کی تعداد درجنوں میں نہیں بلکہ سینکڑوں میں ہے۔ اس مسئلے پر کئی برسوں تک خاموشی اختیار کیے رکھنے کے بعد پینٹاگون نے اب کہا ہے کہ وہ سابق فوجیوں سے رابطے بڑھائے گا۔ امریکی فوج مبینہ وسیع پیمانےپر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش میں عراق بھیجی گئی تھی جہاں انھیں یہ ہتھیار تو نہیں ملے لیکن وہ بچا کچا کیمیائی مواد ملا جو مغرب ہی نے عراقی حکومت کو ایران عراق جنگ کے دوران فراہم کیا تھا۔
مہر نیوز/8 نومبر/ 2014 ء : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی فوجی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ سنہ 2003 میں عراق پر فوج کشی کے بعد سے چھ سو امریکی فوجی کیمیائی مواد سے متاثر ہوئے اور امریکی وزارت دفاع نے اس مسئلے کی سنگینی کا کبھی اعتراف نہیں کیا۔
News ID 1843974
آپ کا تبصرہ